Skip to product information
1 of 5

Artificial Intelligence - مصنوعی ذہانت

Artificial Intelligence - مصنوعی ذہانت

151 Pages | Paperback | Printed on Imported Light Weight Paper

Dr. Zeeshan Ul Hassan Usmani (author)

Sana Rasheed (author)

Publisher: ilmStore - Urdu

یہ کتاب آرٹی فیشل انٹیلی جنس مصنوعی ذہانت کے بارے میں ہے جو عام لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں مختلف سوالات پر غور کیا گیا ہے، جیسے کہ کیا مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ہماری روزمرہ کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی؟، کیا کمپیوٹر خود سے سوچ سمجھ کرنے کے قابل ہوں گے؟، یہ کتاب مصنوعی ذہانت سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے ایک اہم مرجع ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر آپ کو مصنوعی ذہانت کے موضوع میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور آپ کو مصنوعی ذہانت کی دنیا میں بہترین طریقہ کاروں کا علم ہوگا۔

Regular price Rs. 375.00
Regular price Rs. 600.00 Sale price Rs. 375.00
Sale Sold out
Tax included. Shipping calculated at checkout.
View full details

Detailed Description

آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کیا ہے؟ ایک عام آدمی اس شعبہ کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟ کیا مصنوعی ذہانت ہماری روز مرہ کی نوکریاں ختم کر دیگی ، کیا ہم کمپیوٹرز کے محتاج ہو جاینگے، کیا کمپیوٹر خود سے سوچنے سمجھنے کے قابل ہوجائیں گے، کیا انھیں معلوم ہوگا کہ وہ کیا کررہے ہیں، کیا وہ نئے اور پیچیدہ حالات میں خود سے فیصلہ کرسکیں گے، کیا کمپیوٹر اپنے آپکو خود ٹھیک کرسکیں گے، ایسے میں کیا وہ احکامات کی پابندی کریں گے، اخلاقیات اور معاشرتی ضابطوں کی پاسداری کریں گے؟ یہ ہیں وہ سوالات جن کے جوابات اے آئ جاننے میں سرگرداں ہے۔ یہ کتاب آپکو مصنوعی ذہانت سے روشناس کراۓ گی اور اس شعبہ میں آگے بڑھنے کی رہنمائی کرے گی. اردو میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے جو پانچویں جماعت سے لے کر گریجویٹ تک تمام لوگوں کے لئے یکساں مفید ہے. مستقبل مصنوعی ذہانت کا ہے اور آپ اسے سمجھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے. اپنی آرا اور تنقید سے ضرور مطلع فرمائیے گا، امید ہے یہ کتاب آپکو ضرور پسند آئے گی.یہ کتاب کیوں پڑھیں؟ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا آپ کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے کیا واسطہ۔ آپ تو ایک معمولی دکاندار، دیہاڑی دار مزدور، کریانہ کی دکان کے مالک یا ایک پسماندہ سے گاؤں میں کاشتکار ہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے آپ کی بلا سے، نہ آپ تک اُس کا کوئی فائدہ پہنچنا ہے نہ آپ کی زندگی پر اس سے کوئی تبدیلی آنی ہے تو پھر آپ آخر کیوں بلاوجہ اپنا وقت ایسی چیزوں کو پڑھنے، سوچنے اور سمجھنے میں برباد کریں؟ مگر آپ یقین جانیئے کہ حقیقت آپ کی اس سوچ سے یکسر مختلف ہے۔ آپ خواہ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں اور کوئی کام کرتے ہوں۔ آپ کا واسطہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے پڑ چکا ہے یا عنقریب پڑنے والا ہے۔ روزمرہ زندگی کے کام جس میں کوئی اتنا زیادہ دماغ نہیں لگانا ہوتا شدید خطرے میں ہیں۔ اے آئی آٹو مشین کا سب سے پہلا نشانہ یہی آسان کام ہیں۔ اگر ہم خواندگی کی تعریف کو ”اپنانا نام لکھنے کی صلاحیت” سے بدل کر ”کمپیوٹر پروگرام لکھنا” کر دیں تو عالمی شرح خواندگی 86 فیصد سے 3 فیصد پر آ جائے گی۔ مستقبل قریب میں ہر وہ بندہ جسے اے آئی کی سمجھ بوجھ نہیں ہے ناخواندہ کہلائے گا۔ اگر آپ نے کبھی اپنا موبائل فون کال ملانے کے لئے استعمال کیا ہے، یا گوگل پر کچھ ڈھونڈا ہے یا گوگل میپس کا استعمال کیا ہے تو آپ اے آئی کے صارف ہیں۔ ای میل فولڈر میں سے غیرضروری (SPAM) ای میلز کی چھانٹی ہو، یا google maps پر راستے کی کھوج، جی میل پر خودبخود آنے والے سمارٹ ریپلائی ہوں یا فیس بک پر نظر آنے والی پوسٹ یا اشتہارات، موبائل کمپنیز کے نائٹ پیکجز کی پروموشن ہو یا نیٹ فلیکس پر نئی مووی کا مشورہ، بنک کی فنانشل فراڈ کی تشخیص کا سسٹم ہو یا آن لائن ٹکٹوں کی خریداری، کون سی کتاب آپ کو پسند آئے گی سے لے کر کون سے کپڑے یا ہوٹل آپ بک کروانا چاہئیں۔ یہ سب کام ہماری معمولی نظر آنے والی روزمرہ زندگی میں انتہائی غیرمعمولی اور نظر نہ آنے والے طریقوں سے اے آئی سرانجام دے رہی ہے، جتنا جلد آپ اس بات پر یقین لا کر انہیں سمجھنے کی کوششیں کریں گے اتنے ہی فائدے میں رہیں گے۔ اس کتاب میں آپ مصنوعی ذہانت، ذہانت کی تعریف اور اس کے اطلاق کو جان پائیں گے۔ آپ پڑھیں گے کہ اے آئی کا مقصد، اہمیت اور تاریخ کیا ہے۔ ہم آپ کو اے آئی کی شاخوں، قسموں، منطق و تلاش کے الگور تھمز، اطلاق، روزگار، کورسز اور کتابوں کے متعلق آگاہی دیں گے۔ مزید آپ ٹیورنگ ٹیسٹ، چائنیز روم، اے آئی اخلاقیات اور سوچنے کے عمل کے بارے میں بھی جان پائیں گے۔ اُردو زبان میں مصنوعی ذہانت کو پڑھانے کی شاید یہ پہلی قلمی کاوش ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ آپ مایوس نہیں ہوں گے۔ یہ کتاب پانچویں کلاس سے بیچلرز تک کے بچوں کے لئے لکھی گئی ہے کہ وہ اسکی مدد سے اس شعبہ میں قدم رکھ سکیں۔ اگر آپ ایک عام شہری، استاد یا بزنس مین ہیں تو بھی اس کتاب کو ضرور پڑھیں کہ آنے والے مستقبل کی جانکاری حاصل ہو