Detailed Description
Why Read This Book / اس کتاب کا مطالعہ کیوں ضروری ہے؟
لعلکم تتقون (La'allakum Tattaqun) محض رمضان کے فضائل کی روایتی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ڈاکٹر محمد رفعت کی ایک شاہکار تحریر ہے جو روزے کے اصل مقصد 'تقویٰ' کی گہرائی میں اترتی ہے۔ یہ کتاب قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہمارا رمضان واقعی ہمیں 'متقی' بنا رہا ہے؟
اس کتاب میں مصنف نے رمضان المبارک کو ایک 'تربیتی کورس' کے طور پر پیش کیا ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ اگر آپ روایتی انداز سے ہٹ کر رمضان کی روح، اس کے سماجی اثرات اور جدید دور میں اس کی معنویت کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔
About the Author / مصنف کے بارے میں
ڈاکٹر محمد رفعت (Dr. Muhammad Rafat) (مرحوم) ایک ممتاز اسلامی اسکالر، دانشور اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں فزکس کے پروفیسر تھے۔ آپ کا شمار جماعت اسلامی ہند کے سرکردہ رہنماؤں اور مفکرین میں ہوتا تھا۔
ڈاکٹر رفعت کی انفرادیت ان کا جدید سائنسی ذہن اور گہرا اسلامی فہم تھا۔ انہوں نے آئی آئی ٹی کانپور (IIT Kanpur) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور ساتھ ہی دینی علوم میں بھی گہری بصیرت رکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں منطقی استدلال، فکری گہرائی اور دورِ حاضر کے مسائل کا حل پایا جاتا ہے۔ وہ 'زندگیِ نو' میگزین کے مدیر بھی رہے اور متعدد علمی و فکری کتابوں کے مصنف تھے۔
Key Features / اہم خصوصیات
- فکر انگیز مباحث: رمضان اور تقویٰ کے تعلق پر گہری اور منطقی بحث۔
- جدید اسلوب: روایتی واعظانہ انداز کے بجائے جدید ذہن کو اپیل کرنے والا علمی اسلوب۔
- جامعیت: روزے کے روحانی، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں کا احاطہ۔
- اعلیٰ معیار: بہترین کاغذ اور عمدہ طباعت کے ساتھ پیشکش۔
- مستند حوالہ جات: قرآن و سنت کی روشنی میں دلائل سے مزین۔
What Readers Are Saying / قارئین کی رائے
اگرچہ ہر قاری کا تجربہ مختلف ہوتا ہے، لیکن ڈاکٹر رفعت کی تحریروں کے بارے میں قارئین کے عمومی تاثرات کچھ یوں ہیں:
- "یہ کتاب رمضان کے بارے میں میری سوچ کو مکمل طور پر تبدیل کر دینے والی ثابت ہوئی۔ یہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ٹریننگ ہے۔"
- "ڈاکٹر صاحب کا اندازِ تحریر بہت سلجھا ہوا اور دل میں اتر جانے والا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔"
- "رمضان کی تیاری کے لیے میں نے اس سے بہتر اور مختصر کتاب نہیں دیکھی۔"
